اثاثہ جات ریفرنس: وزیر خزانہ اسحاق ڈار احتساب عدالت پہنچ گئے

Ishaq Dar

Ishaq Dar

اسلام آباد (جیوڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر پیشی کے لیے احتساب عدالت پہنچ گئے جہاں آج ان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس آمدن سے زائد اثاثوں کا ہے اور کیس میں سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔

نیب ریفرنس پر اسحاق ڈار 25 ستمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے جہاں عدالت نے مختصر سماعت کے بعد ان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے آج کی تاریخ مقرر کی تھی۔

عدالت نے 25 ستمبر کی گزشتہ سماعت پر ملزم کو 23 جلدوں پر مشتمل ریفرنس کی نقول فراہم کر کے وصولی کی رسید پر دستخط کرائے تھے۔

نیب ریفرنس پر اسحاق ڈار کے خلاف آج چوتھی سماعت ہے جس کے لیے وہ عدالت پہنچے ہیں جہاں ان پر کیس میں فرد جرم عائد کی جائے گی جس کےبعد ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔

وفاقی وزیر خزانہ کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس اور اس کے اطراف سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

سخت سیکیورٹی کے باعث میڈیا نمائندوں اور سائلین کو باہر روک لیا گیا جب کہ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل اور اسپیشل پراسیکیوٹر کوبھی روکا گیا تاہم انہیں تھوڑی دیر بعد جانے کی اجازت دے دی گئی۔

عدالت کے باہر رش کے باعث پولیس نے عدالت کے گیٹ بند کررکھے تھے، عدالت کے باہر دھکم پیل کے بعد اسحاق ڈار احاطہ عدالت میں داخل نہ ہوسکے جس کے باعث وہ واپس اپنی گاڑی میں بیٹھ گئے تاہم عدالت کے باہر بدنظمی کی وجہ سے اسحاق ڈار عقبی راستے سے احتساب عدالت کے احاطے میں داخل ہوئے۔

اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس پر پہلی سماعت 14 اور دوسری 20 ستمبر کو ہوئی جس روز ملزم کی عدم پیشی پر عدالت نے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے۔

کیس کی تیسری اور گزشتہ سماعت پر اسحاق ڈار کے وکیل کی جانب سے ریفرنس کے جائزے کے لیے کم از کم 7 دن دینے کی استدعا مسترد کردی گئی تھی۔

واضح رہے کہ نیب نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان اور اسحاق ڈار پر ریفرنس بنائے ہیں جب کہ شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز دائر کیے گئے ہیں جس میں میاں نوازشریف پر فرد جرم کے لیے 2 اکتوبر کی تاریخ مقرر ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے کیس میں گزشتہ روز پیش نہ ہونے پر نوازشریف کے بچوں اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔