آئین پاکستان میں حاکم اعلیٰ اللہ عزوجل کی ذات ہے، شاہ محمد اویس نورانی

Pakistan

Pakistan

کراچی : فدایان ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ اور مرکزی جماعت اہل سنت کے مرکزی رہنما علامہ مفتی عبدالحلیم ہزاروی نے کہا ہے کہ غازی ممتاز قادری کے معاملے پر اعلی عدلیہ نے چپ کا روزہ رکھ لیا،اعلیٰ عدلیہ ہمیں جواب دے کا جب عوام کے پاس آئینی حق ہے کہ وہ کسی بھی کیس شرعی عدالت میں بھیجنے کا مطالبہ کر سکتی ہے تو ایسی صورت میں اعلیٰ عدلیہ اس بات سے پیچھے کیوں ہٹ رہی ہے؟ خاموش مطلب انگیز ہے، اس خاموشی میں شر چھپا ہوا ہے۔

عوام کے صبر اور برداشت کو پوری قوت سے آزمایا جا رہا ہے، وفاقی حکومت کا حال اگلے انتخابات میں پیپلز پارٹی جیسا ہونے والا ہے، غازی ممتاز قادری کے کیس کو شرعی عدالت میں منتقل نہ کرنا اللہ اور اس کے رسول ۖ کے قانون سے غداری کا سبب بن رہا ہے، 20دسمبر کے دن پورے ملک میں دوسرے مرحلے کے مرحلہ وار علامتی دھرنوں کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے لئے ملک کی ہر عاشق رسولۖ جماعت سے رابطے جاری ہیں،مخالفت سے نظام مصطفیۖ کی راہ ہموار ہو رہی ہے، مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے فدایان ختم نبوتۖ کے مرکزی امیر علامہ خادم حسین رضوی اور مرکزی ناظم اعلیٰ مفتی عبدالاحلیم ہزاروی سے مشورہ اور لائحہ عمل کے بعد اخباری بیان میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے پارلیمنٹ اور اعلیٰ عدلیہ کو جو تجاوزات بھیج ہیں پارلیمنٹ اور اعلی عدلیہ انہیں مسلسل نظر انداز کر رہی ہیں۔

فدایان ختم نبوتۖ کے مرکزی ناظم اعلی مفتی عبدالحلیم ہزاروی نے تبت سینٹر کے مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہ آئین پاکستان میں حاکم اعلیٰ اللہ عزوجل کی ذات ہے،آئین پاکستان کی اساس اور بنیاد قرآن پاک ہے، یہاں کا طریقہ رسول اللہ ۖ کی سنت ہے اور اجتہاد کی بنیاد صحابہ کرام کی زندگی کے فیصلے ہیں، حضور علیہ السلام نے عتبہ بن شیبہ گستاخ رسول کے بارے میں حکم دیا تھا کہ اگر وہ خانہ کعبہ کی دیوار میں چھپا ہو تو اسے وہاں سے نکال کر بھی قتل کردیا جائے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک منافق کی جان اس لئے لے لی کہ اس نے نبی کریمۖ کے فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا اور تمام صحابہ و آئمہ مجتہدین کا فیصلہ ہے کہ گستاخ رسولۖ کی گردن مار دی جائے، غازی ممتاز قادری نے شیطان تاثیر کو مار کر دین کی خدمت کی اور دین کی اصل کو قائم کردیا ہے۔

تحریک رہائی ممتاز قادری کے حوالے سے فدایان ختم نبوتۖ کے مرکزی ترجمان کی طرف سے یہ پیغام جاری کیا گیا ہے کہ تحریک رہائی غازی ممتاز قادری کے لئے شروع ہونے والے دھرنوں اور مظاہروں کے سلسلے میںکراچی،لاہور، پشاور، کوئٹہ ، اسلام آباداورراولپنڈی ہمارے دھرنوں کا مرکز رہے گا، پورے ملک کے 140زیادہ اضلاع میں علامتی دھرنے، مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائینگی، تمام صوبائی ذمہ داران و مرکزی رہنما براہ راست قیادت کرینگے۔