حج پالیسی

Hajj

Hajj

تحریر : محمد نصیر الدین
ہر سال درخواستوں کے ادخال کے ذریعہ حج کمیٹی فی کس 300 روپئے وصول ہو تی ہے اور تقریباً 5 لاکھ درخواست گذار وں سے اس طرح حج کمیٹی کو تقریباً 15کروڑ روپئے کی خطیررقم وصول ہو تی ہے۔ اور ہر سال پھر سے رجسٹریشن کروانا پڑ تا ہے جبکہ صرف ایک بار کا رجسٹریشن کا فی ہو نا چاہئے۔

جب رجسٹریشن آئن لائن کیا جا رہا ہے تو پھر درخواست گذار کوکوئی ایک نمبر کیوں نہیں الاٹ کیا جا سکتا پہلے آؤ پہلے پاؤ کی بنیاد پر اگر سیناریٹی طئے کر دی جا ئے پھر ہرسال رجسٹریشن اور قرعہ کا مسئلہ بھی ختم ہو جا ئے گا اور سینیاریٹی کی بنیاد پر ہر درخواست گذار کو اس بات کا اندازہ ہو جا ئے گا س کا انتخاب کب تک ممکن ہو پائیگا۔ اس طرح بار بار فارم کا ادخال اور پیسے کا اتلاف دونوں سے بچا جا سکتا ہے۔

اس کمیٹی نے حج سبسیڈی کو ختم کر نے کے عمل کو جاری رکھنے کی سفارش کی ہے۔ حج سبسیڈی سوائے ایر انڈیا کا خزانہ بھر نے کے اور کچھ نہیں ہے۔ اگر حکومت ہند گلوبل ٹنڈر ز طلب کر تی ہے تو کرایہ بے انتہا کم ہو سکتا ہے۔ آج بھی 50،55ہزار میں رہائش طعام اور آنے جانے کی تمام سہولتوں کے ساتھ 15دن کا عمرہ ہو سکتا ہے تو پھر ایر انڈیا کرایہ کے نام کیسے 60ہزار روپئے وصول کر تا ہے۔ حالانکہ اتنی بڑی تعداد میں کسی بھی ایر لائنس کو مسافرین دستیاب نہیں ہو تے۔ ایر فلائٹس کا واپسی میں خالی آ نے کا بہانہ بھی وزن نہیں رکھتا کیوں کہ عام طور پر کسی بھی کمرشیل فلائٹ میں 100% Occupancyنہیں ہو تی۔ ویسے ایر لائنس ایڈوانس میں ٹکٹ بک کر وانے پراور بڑے گروپس ہوں تو پر کشش ڈسکاؤنٹ دیتی ہیں۔ لیکن حاجیوں کو ان تمام سہولتوں سے محروم رکھا گیا ہے۔

کمیٹی نے اس بات کو بھی نظر انداز کر دیا ہیکہ عازمین حج کی خدمت صرف مرکزی حج کمیٹی یا ریاستی حج کمیٹی کے بس کی بات نہیں۔ زمینی سطح پر ہر ضلع میں حج سوسائٹیز ریاستی حج کمیٹی کی رہنمائی میں رضاکارانہ طور پر کام انجام دیتی ہیں ۔ آن لائن فارم داخل کر نے، رقم ادا کرنے، تربیتی اجتماعات اور روانگی و واپسی تک کے کام کی رہنمائی حج سوسائٹیز مفت انجام دیتی ہے۔ لیکن حج ایکٹ 2002ء جہاں مرکزی حج کمیٹی اور ریاستی حج کمیٹی کی تشکیل کا طریقہ کار موجود ہے ایسا ضلع کی سطح پر کسی کمیٹی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس لئے بہتر تھا کمیٹی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعہ ضلع کمیٹیوں کی
تشکیل کی بھی گنجائش فراہم کر تی۔

کمیٹی نے قربانی کی رقم ایڈوانس میں ادا کر نے کو لازمی کر دیا ہے لیکن اس سے قبل اس قسم کی کوششیں نا کام ثابت ہوئی۔ کمیٹی نے منی اور عرفات میں معلم کی جانب سے طعام فراہم کر نے پر معیار کی برقراری کا ذکر تو کیا لیکن عازمین حج کو مکہ یا مدینہ میںحج کمیٹی کی جانب سے طعام کی فراہمی کے بارے میں کوئی سفارش نہیں کی۔ اس سے قبل مدینہ منورہ میں حج کمیٹی کی جانب سے غلط کیٹرر کا انتخاب طعام کی فراہمی کو نا کام کر نے کے باعث بنا تھا۔ لیکن اس سمت میں اقدامات کئے جا ئے تو عازمین کیلئے بڑی راحت ہو سکتی ہے۔ حیدر آباد نظام رباط میں تقریباً 1260 عازمین کا مفت قیام و طعام حاجیوں کو سہولتیں پہنچا نے کی بہترین مثال ہے۔ کمیٹی کو اس سلسلہ میں سفارش کر نی چاہئے تھی تا کہ حاجیوں کی بہتر انداز میں خدمت ہو سکے۔ اُمید کہ ان سفارشات پر کوئی قطعی فیصلہ کر نے سے قبل حکومت ہند اور معزز وزیر برائے اقلیتی امور جناب مختار عباس نقوی ان تمام نکات پر مثبت انداز میں غور فرمائیں گے اور حاجیوں کیلئے راحت رسانی کا باعث بنیں گے۔

Mohammad Nasiruddin

Mohammad Nasiruddin

تحریر : محمد نصیر الدین
سکریٹری حج سوسائٹی، نظام آباد
Mobile: 9440603210
mohd.naseer41@gmail.com