موٹر وے کا کریڈٹ لینے والے

Motorway

Motorway

تحریر : مسز جمشید خاکوانی
گجرات کوٹلہ میں تقریر کرتے ہوئے میاں صاحب کا فرمانا تھا کہ میرا نام کہاں کہاں سے مٹائو گے موٹر وے بھی میں نے بنائی ہے اسے بھی اکھاڑ دو ایٹمی دھماکے بھی میں نے کیئے ہیں اس کو بھی مٹا دو ایرپورٹ، بجلی کے کارخانے ،سڑکیں سب کچھ میں نے بنایا کہاں کہاں سے میرا نام مٹائو گے؟ اس سے پہلے ان کے داماد کیپٹن صفدر بھی کہہ چکے ہیں کہ موٹر وے پر مت چڑھا کرو گیس کے کنکشن کٹوا دو یہ نواز شریف کی مہربانی سے بنے ہیں ،اس پر عام لوگوں کا کہنا تھا کیا یہ منصوبے نواز شریف نے اپنی جیب سے بنائے ہیں کیا؟ یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے لیکن دانشوروں کے ایک ٹولے کا کہنا تھا میاں صاحب تو سی پیک منصوبے کا کریڈٹ بھی لے رہے ہیں حالانکہ چین کو دعائیں دیں جس نے راہداری کے لیے اس منصوبے پر پیسہ لگایا ہے اس میں زرداری یا نواز شریف کا کوئی کمال نہیں، یہ منصوبہ مشرف دور میں شروع ہوا تھا سروے اور زمینوں کی خریداری اسی دور میں شروع ہو گئی تھی اور یہ کام زرداری دور میں بھی چلتا رہا تاہم اس میں تیزی اس وقت آئی جب امریکہ نے جاپان اور بھارت سے مل کر چین کی سمندری ناکہ بندی کرنے کا پروگرام ترتیب دیا تو چین کو اپنی تجارت کو تعطل سے بچانے کے لیے اس منصوبے کو تیزی سے مکمل کرنے کی طرف توجہ دینی پڑی اور یہ دور نواز شریف کے حصے میں آ گیا تو انہوں نے صرف یہ کمال کیا کہ سی پیک منصوبہ کو حسن ابدال سے لاہور اور پھر کراچی سے گوادر تک لے لے جانے پر ساری توجہ اور پیسہ خرچ کر دیا ھو سکتا ہے۔

میاں صاحب کے ذہن میں گریٹر پنجاب کا تصور لہلہا رہا ہو حالانکہ پہلے مغربی روٹ مکمل کیا جاتا تو اس وقت خیبر پختون خواہ ،بلوچستان اور سندھ اس سے مستفید ہو رہے ہوتے جس پر معروف جیو اینکر سلیم صافی ایک عرصے سے چیخ رہا ہے اس کے کالم اٹھا کر دیکھیں تو سمجھ آ جائے گی کہ تین بار وزیر اعظم منتخب ہونے والا نواز شریف اندر سے کتنا متعصب پنجابی ہے اور یہ بات وفاق کے لیے انتہائی خطرناک کہ ایک قومی لیڈر کی سوچ اتنی چھوٹی ہے اسی لیے تو تین صوبوں میں مسلم لیگ نون کا پچھلے الیکشن میں صفایا ہو گیا تھا پنجاب تک محدود رہ جانے والے میاں صاحب اس بار پنجاب سے بھی فارغ ہو جائیں گے انشا اللہ۔ کیونکہ یہ منصوبہ قومی نوعیت کا ہے اس لیے یہ مکمل فوج کے کنٹرول اور ضمانت پر ہے یہ چلتا رہے گا اور انشا اللہ مکمل ہو کے رہے گا چاہے حکومت کسی کی بھی ہو اسی طرح ایٹمی پروگرام بھٹو دور میں شروع ہوا لیکن پھر حالات کیسے رہے اور کسی کا بھی دور آیا یہ رکا نہیں کیونکہ یہ مکمل فوج کے کنٹرول میں تھا لیکن دھماکہ اس وقت کرنا پڑا جب مئی 1998میں بھارت نے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں حکومت میاں نواز شریف کی تھی لیکن فیصلہ فوج نے کیا کہ دھماکے ہر صورت کرنے ہیں میاں صاحب کا کیا موقف تھا گوہر ایوب خان جو اس وقت وزیر خارجہ تھے ان کی کتاب پڑھ کر معلوم کیا جا سکتا ہے میاں صاحب بس قسمت کے دھنی ہیں اسی سے تو ایک سے درجنوں انڈسٹریز کے مالک اور کھربوں کے مالک بنے بیٹھے ہیں جن کی باہر تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں اور اب تو ساری باہر ہی ہو گی۔

میاں صاحب کے گونگلو اب پاکستانی شہری ہونا بھی پسند نہیں کرتے جس کا وزیر اعظم ان کا باپ تین بار رہ چکا ہے عدالت ان سے منی لانڈرنگ کا ثبوت مانگ رہی ہے ایک ڈیڈھ سال سے جو یہ نہیں دے رہے بلکہ عوامی طاقت کے ذریعے بلیک میل کر رہے ہیں حکومت اب بھی انکی ہے اور احتجاج بھی یہی کر رہے ہیں کھلی بدمعاشی ہے یہ لیکن اس سسٹم کو ڈی ریل نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے ان کے حوصلے بڑھ گئے ہیں اور یہ عدالتوں کو جواب دینے کی بجائے سڑکوں پر عدالتوں کو گالیاں دیتے پھرتے ہیں یہی تو دکھ ہے کہ عوام ان لٹیروں کو کیوں نہیں سمجھ رہی ملک پر زرداری سے بھی زیادہ قرضے انہوں نے چڑھا دیے ہیں ملک غریب اور یہ امیر کیسے ہو گئے ؟یہاں دن رات محنت کرنے کے باوجود لوگ لاکھوں کے مالک نہیں بن سکتے لیکن ان کے غلام بھی اربوں کھربوں کے مالک ہیں یہ گزشتہ تیس بتیس سال سے حکمران ہیں۔

عوام اور عدالت ان سے حساب لینے کا حق رکھتی ہے اب ذرا اقامے کا ڈھونگ دیکھو کتنے شرم کی بات ہے ہمارے ملک کا وزیر اعظم ایک دوسرے ملک کی کمپنی کا تنخوادار ملازم ؟کتنے شرم کی بات ہے جہاں اتنے دھوکے دیے کسی اور کا نام ڈال کر ایک دھوکہ اور کر لیتے ملک کے وقار کا خیال تو رکھتے یہ دھوکہ نہیں کہ پاکستان کے سب سے بڑے عہدے پر بیٹھنے والا بندہ دوسرے ملک میں جعلی ملازم بنا ہوا ہے اور اس کے اکائونٹ میں تنخواہ بھی آ رہی ہے کیا ایسے دھوکہ باز کو ملک کا وزیر اعظم ہونا چاہیے ؟جو پارلیمنٹ میں بھی جھوٹ بولتا ہو بات ملک کی ساکھ اور وقار کی ہے جس کا اس مکار نے ذرا بھی خیال نہیں کیا بیٹی اس سے بھی دو ہاتھ آگے کہتی تھی میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں ۔۔۔۔اور پھر ٹمپر شدہ جعلی کاغذات عدالت میں پیش کر دیے ۔بھائی کہتا ہے مریم مالک ہے ٹی وی پر فوٹیج دیکھ لو ،قطری خط تھا ہی فراڈ جب اسے عدالت سے طلب کرنے کا خط ملا بھاگ گیا اب قطری خط کا نام کیوں نہیں لیتے ؟ اور یہ کس انتقام کی بات کرتے ہیں عام صنعت کار ،تاجر عوام کیا انکی وہ نوعیت بنتی ہے جو میاں صاحب کی ہے۔

میاں صاحب کو عوام نے ووٹ دے کر ایک امانت عنایت کی ملک کا وقار اس کے سر پہ رکھا اس نے حلف اٹھایا مگر اس کی پاسداری نہیں کی اور آئین کی پاسداری نہ کرنے والے کو بقول اس کے غدار کہتے ہیں جیسا کہ مشرف کو یہ غدار کہتے ہیں بلکہ اس پر غداری کا مقدمہ بھی چلا رہے ہیں حالانکہ وہ اس ملک کا آرمی چیف رہا باہر کی دنیا میں ہماری کیا عزت ہو گی؟کہ ان کا آرمی چیف غدار ہے تو پھر آرمی کیسی ہوگی جب کہ ہماری فوج ملک کے لیے جان کی قربانیاں دے اندرونی اور بیرونی سازشوں کو ناکام بنا رہی ہے آئین توڑنے کے جرم کا نام اور سزا کا کچھ اور رکھ لیں بے شک مقدمہ چلائیں سزا دیں لیکن یہ کسی طرح مناسب نہیں ملک کے آرمی چیف کو غدار کہا جائے اگر آرمی وفادار نہیں تو پھر اس ملک کا کوئی بھی وفادار نہیں ہمارے دشمنوں کے پیٹ میں آرمی کا ہی تو مروڑ ہے اور کچھ لوگ ان دشمنوں کی گڈ بک میں آنے کے لیے لبرل کا لبادہ اوڑھ کے فوج کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے ہوئے ہیں۔

شائد ڈالروں کی چمک بھی ان کی آنکھوں کو خیرہ کیے ہوئے ہے نواز شریف کے سر پر بھی آجکل لبرل کا بھوت سوار ہے جس کو وہ اب نظریاتی ہونے کا نام دیتا ہے حالانکہ یہ اقتدار کی خاطر منافقت کر رہا ہے اور اسی لالچ میں انوشہ رحمان کے ذریعے ختم نبوت ۖ کے قانون میں ایک سازش کے تحت تبدیلی کی گئی مگر رنگے ہاتھوں پکڑے گئے جرم کا اعتراف بھی کر لیا اس سے بڑا جرم بھی کوئی ہو سکتا ہے ؟ ان کو اللہ کی مار پڑی ہے یہ ابھی اور رسوا ہونگے حکومت جانے دو واپسی نا ممکن ہے ان کی ،اللہ کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں مشرف سے زیادہ مظبوط نہیں ہیں یہ اس نے بھی حدود آرڈیننس ختم کر کے اللہ کے غضب کو للکارہ تھا آج تک اس کی تاب نہیں لا سکا حالانکہ اس نے جتنے کام کیے اور ملک کو معاشی طور پر جتنا مضبوط کیا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا لیکن جتنی نفرت عوام میں اس کے خلاف ہے کسی سے نہیں ان لوگوں کا کا انجام بھی یہی ہوگا انہوں نے پوری ریاست کو یرغمال بنا رکھا ہے یہ کہتے ہیں ہم صرف عوام کو جواب دہ ہیں اور اسی عوام کو ڈگڈگی پر نچا رہے ہیں اگر عوام ان کے جلسوں کو رونق بخشنا چھوڑ دیں تو یہ اپنی موت آپ مر جائیں گے۔

Mrs Khakwani

Mrs Khakwani

تحریر : مسز جمشید خاکوانی