ہماری امن دوستی کو کمزوری سمجھنا خطرناک ثابت ہو گا: صدر ممنون حسین

Mamoon Hussain

Mamoon Hussain

اسلام آباد (جیوڈیسک) صدر ممنون حسین کا کہنا ہماری امن دوستی کو کمزوری سمجھنا خطرناک ثابت ہو گا، ہمارا ہمسایہ اپنی فوجی قوت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کشمیریوں کے جائز حق کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، افغانستان میں امن کیلئے پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

صدر مملکت ممنون حسین نے یوم پاکستان پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہاملکی تاریخ میں 23 مارچ جیسا کوئی دن نہیں، یہ شاندار پریڈ ہمارے خوابوں کی تعبیر ہے، 23 مارچ 1940 کو ہمارے بزرگوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کیا، شہدا اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا خطے میں امن اور سلامتی کے مخالفین کو خیر سگالی کا پیغام دیتے ہیں، سری لنکن صدر کی پریڈ میں شرکت پر شکر گزار ہیں۔

صدر مممنون حسین نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کے آپریشن ردالفساد جیسی کارراوئیوں کے ذریعے چیلنج کا مقابلہ عزم و ہمت سے کیا، قوم جوانوں کی جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا جوانوں کی قربانیوں کے اعتراف میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کیلئے نئے میڈل تمغہ عزم کا اعلان کرتا ہوں، پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت آگے بڑھنے کا عزم رکھتے ہیں۔

صدر مملکت پاکستان کا کہنا تھا ہمسائے ملک کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے خطے کا امن داؤ پر لگ گیا ہے، آزادی کی تحریک کو طاقت کے زور پر دبایا نہیں جاسکتا، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے۔ انہوں نے کہا آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد قیام امن کیلئے کیے گئے ہیں، ہمارے جمہوری ادارے فعال ہیں اورآئینی حدود میں رہ کرکام کر رہے ہیں، منتخب جمہوری حکومتوں کا مدت پوری کرنا باعث اطمینان ہے۔

صدر ممنون حسین نے کہا 23 مارچ کو مضبوط اسلامی جمہوری ملک بنانے کا عہد کیا گیا، پاک افواج نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام دنیا بھر میں بہترین خدمات انجام دیں، پاک فوج کی لازوال قربانیوں کے باعث ملک میں امن قائم ہوچکا ہے۔