عوام ! تمنائوں میں الجھے ہیں

Election

Election

جمہوریت کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن اگر جمہوریت کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ جمہوری نظام عجب چیز ہوتی ہے اس میں الیکشن تو بطورِ خاص اپنی ایک اہمیت رکھتے ہیں۔ اور ہمارے یہاں تازہ تازہ الیکشن ہوئے ہیں اور پھر حکومت سازی بھی ہوئی، جمہوری اصولوں کے مطابق اقتدار کی منتقلی بھی ہوئی، مگر عوام کے مسائل ابھی تک عوام تک منتقل ہوناشروع نہیں ہوئے۔

الیکشن کا اصل میں ایک خاص موسم ہوتاہے جب ہرپارٹی کے درخت پر وعدوں کے پھل پھول اس قدر دکھائی دیتے ہیں کہ جیسے ابھی الیکشن ہوئے اور سارے مسائل کا خاتمہ…لیکن یہ پھول نہ کبھی کھلتے ہیں اور نہ یہ پھل کبھی کسی کے ہاتھ لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قومی سیاسی پارٹی دل کھول کر وعدے وعید کرتی ہے،صرف ایک مثال یہاں پر تحریر کروں گا کہ الیکشن سے پہلے کئی پارٹیوں نے یہ وعدہ کیا کہ مزدوروں کی کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار کر دی جائے گی۔ لیکن جیتنے والی پارٹی نے بجٹ میں اس معاملے کو اُجاگر ہی نہیں کیا۔

ہاں پنجاب سرکار نے بجٹ میں یہ کہا کہ بتدیج یہ تنخواہ پندرہ ہزار کر دی جائے گی۔ کیا الیکشن سے پہلے کے وعدوں میں بتدریج کا لفظ استعمال کیا گیا تھا۔ شاید نہیں !پتہ نہیں کیوں عوام سے خم ٹھونک کر وعدے کئے جاتے ہیں اور بعد میں انہیں اُسی کسمپرسی میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ پارٹیاں وعدوں کی برسات توکرتی ہیں لیکن ایک بوند بھی یہاں بسنے والے عوام کے لئے نہیں ٹپکتا۔ عوام آج بھی زبوں حالی کا ماتم کرنے پر مجبور ہیں۔ آج موجودہ ماحول اور اقتدار عوام کے لئے عملی اقدامات کرنے میں بہت سازگار لگتا ہے اگر حکومت خلوصِ دل سے چاہے تو ترقی و خوشحالی کا سفر شروع کیا جا سکتا ہے اور صدقِ دل سے اس سمت میں اگر قدم اٹھایا جائے تو لازمی ہے کہ نتیجہ اچھا ہی برآمد ہو گا ورنہ ایسے تمام وعدوں کے بارے میں یہی کہنا پڑے گا کہ:

تمنائوں میں اُلجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

پاکستان نے ابھی تک جمہوریت تو دیکھی ہے مگر جمہوریت کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی کو اختیار نہیں کیا، اس وقت ساری دنیا کی نگاہیں اس تجربہ کے نتائج کو دیکھنے میں لگی ہیں۔ آپ دیکھئے کہ چین، ہندوستان اور پھر بنگلہ دیش تینوں نے انیسویں صدی میں سیاسی اور اقتصادی انقلاب کا راستہ اپنایا۔ تینوں بڑی آبادی والے بڑے ملک ہیں۔ تینوں کو وراثت میں غریبی، جہالت اور پس ماندگی کاسامنا تھا۔ اس وقت سے دنیا کے حالات کا جائزہ لینے والے، تینوں ملکوں کی ترقی کا موازنہ کرتے رہتے ہیں۔لوگوں کا عام تصوریہ ہے کہ چین نے کم عرصہ میں زیادہ ترقی کی ہے۔

World

World

دنیا کے بازاروں میں چینی مال چھایا ہواہے اور ہر جگہ با آسانی ملتا ہے۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش نے بھی ترقی کی ہے مگر چین کے مقابلے میں یہ دونوں ممالک پیچھے نظر آتے ہیں۔ تجارت، کھیل اور سیاست کے میدان میں چین ایک بڑی طاقت بن کر اُبھرا ہے۔ اگر یہ ممالک ترقی کر سکتے ہیں تو کیا ہمارا ملک ترقی کے منازل طے نہیں کر سکتا۔ پتہ نہیں ہم اور ہمارے ارباب کی آنکھیں کب کھلیں گی۔ کب ہم اس دوڑ میں شامل ہونگے۔ کب یہاں کے عوام کی تقدیر بدلے گی، کب یہاں امن و امان ہو گا، کب یہاں بے روزگاری ختم ہو گی، کب یہاں لوڈ شیڈنگ کا عذاب ختم ہو گا۔

کب یہاں فرقہ واریت اور مسلکیت کا بیج بونا ختم ہو گا،کب دہشت گردی تھمے گی، خدا کرے کہ اُس دن کا سورج جلد ہی طلوع ہو اور ہم بھی ترقی کی شاہراہیں عبور کر سکیں۔ ہماری کرنسی کا حال دیکھئے کہ کل ہی میری ملاقات ایک ریسرچ اسکالر سے ہوئی جو بنگلہ دیش کا رہنے والاہے مگر شہرِ قائد سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حصول میں سرگرداں ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہاں کوئی جاب بھی کرتاہے تاکہ روزی روٹی کا معاملہ بھی چلتا رہے۔ کل اس شخص نے کہا کہ پہلے پاکستان سے پچاس ہزار روپئے اپنے ملک بھیجتاتھا تو وہاں ایک لاکھ روپیہ گھر والوں کو ملتا تھامگر اب پچاس ہزار بھیجوں تو تیس ہزار ہی ملتا ہے ۔یہ ہو گیا ہے ہماری کرنسی کا حال!خدا ہمارے حال پر اپنا خاص رحم و کرم فرمائے۔

موجودہ پاکستان کا غریب اب پہلے جیسا تو نہیں مگر پھر بھی وہ چاہتا ہے اس کے زندگی کی ترجیحات میں تبدیلی آئے۔ یہاں کا غریب دال روٹی کھانے والا اور موٹا کپڑا پہننے والا غریب ہے اس کا رہن سہن نہیں بدلا، اس کے آرزئویں اور ارمان نہیں بدلے ہیں وہ بھی اچھا کھانا اور اچھا پہننا چاہتا ہے، وہ بھی اچھی زندگی بسر کرنا چاہتا ہے، وہ زندہ رہنے کے لئے اس کے علاوہ اچھا مکان، بہتر علاج اور بہتر تعلیم کی سہولت چاہتاہے۔

آئندہ اقتصادی منصوبہ بناتے وقت ان باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہو گا جس سے غریبوں کی حالت بدلی جا سکے۔ بحث و مباحثے تو ان غریبوں کے حالات بدلنے کے لئے چلتے ہی رہتے ہیں مگر اس پر عملی کاروائی دیکھنے میں نہیں آتی اس طرف بھی ارباب کو سوچنا پڑے گا تاکہ ان کی زندگی میں سدھار آ سکے۔ ایک طرف توغریب آدمی اچھا کھانے پینے کے بارے میں سوچتا ہے، مگر ملک میں ان کے لئے کوئی نہیں سوچتا ہے۔

ملک کے لیڈروں نے یہ بھی خواب دکھایا تھا کہ آزاد پاکستان میں امیر اور غریب کا فرق مٹ جائے گا۔ مگر یہ خواب ابھی تک حقیقت کے قرب کو چھوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔اگر غریبوں کی آمدنی بڑھے گی تو ان کے ارمانوں کے مطابق ان کے اخراجات بھی بڑھیں گے ، کاش کہ اس طرف کسی حکومت نے توجہ دی ہوتی تو آج حالات یکسر تبدیل ہوتے۔ غریبوں کے درد کا یہ شعر خوب توجہ دلاتاہے۔

کس طرف جائوں، کدھر دیکھوں، کسے دوں آواز
اے ہجومِ نامرادی دل بہت گھبرائے ہے

Inflation

Inflation

ویسے بھی مہنگائی نے ہر طبقہ کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ہر بندے کی زبان پر ایک ہی بات ہے مہنگائی نے مار ڈالا، آج عالم یہ ہے کہ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے مگر نہ کوئی بولنے والا ہے اور نہ اس سلسلے میں کسی کو دلچسپی اور رغبت ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر طبقے کے لوگوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ اس بے لگام مہنگائی کے زمانے میں لوگوں کو گھر کا خرچ چلانا مشکل ہو چکا ہے اور حکومت دس فیصد کا نظرانہ دے کر سمجھ رہی ہے کہ ان کے مسائل حل کر دیئے۔ کھانے پینے کی اشیا سے لے کر پہننے اوڑھنے کی تمام چیزیں بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ سوئی سے لے کر جہاز تک تمام چیزیں غریب اور متوسط طبقہ کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں۔

معمولی تنخواہ پانے والا شخص اپنے گھر والوں کاپیٹ کس طرح پال سکتا ہے جبکہ اسی تنخواہ میں بچوں کو پڑھانا لکھانا بھی ہے، گھریلو اخراجات بھی پورے کرنے ہوتے ہیں اور میڈیکل بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مگر افسوس اس طرف کوئی توجۂ خاص نہیں ڈالتا۔بصورتِ دیگر ہر ایسے معاملات کے بعد مرثیے پڑھے جائیں، کھوکھلے بیانات جاری ہوں۔

گرما گرم قرار دادیں منظور ہوں اور زندگی لگے بندھے معمولات کی راہوں پر چلتی رہے تو ہم اصلاح احوال کی امید کیسے کر سکتے ہیں، جن خواہشوں اور قرار دادوں کے پسِ پشت عوامی طاقت نہ ہو، انہیں ٹھوکروں پر رکھا جانا چاہیئے، آنکھوں کا سرمہ نہیں بنایا جانا چاہیئے۔ اختتامِ کلام بس اتنا! کہ خدا ہمارے حکمرانوں اور بیورو کریسی کو ایسی توفیقِ خدمت مرحمت فرما ئے جس سے غریبوں کا بھلا ہو سکے۔ آمین

تحریر: محمد جاوید اقبال صدیقی