کوئی یاد آیا

Remember

Remember

جام چھلکے تو کوئی یاد آیا
زخم مہکے تو کوئی یاد آیا
جب بھی برسات کے نظاروں میں
گھر سے نکلے تو کوئی یاد آیا
زندگی کی اداس پلکوں پر
اشک چمکے تو کوئی یاد آیا
ہِجر کے بے کراں سمندر میں
جب بھی اترے تو کوئی یاد آیا
تِشنگی کے دیار شاہد ہیں
ہونٹ سلگے تو کوئی یاد آیا
رتجگے کی امین آنکھوں میں
خواب اترے تو کوئی یاد آیا
جب میری حالتِ پریشاں پر
لوگ روئے تو کوئی یاد آیا
سوچنے کا مقام ہے ساحل
پی کے بہکے تو کوئی یاد آیا

ساحل منیر