سونامی سے جھاڑو تک

Imran Khan

Imran Khan

تحریر: پروفیسر رفعت مظہر
ہمارے کپتان صاحب نے یکم دسمبر کو پشاور کی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا” تحریکِ انصاف آئندہ نسلوں کی ذمہ داری لینے والی پہلی حکومت ہے۔ خیبرپختونخوا کو ماڈل صوبہ بنائیں گے۔ پہلے پشاور اور پھر ضلعی ہیڈکوارٹر میں صفائی مہم شروع کریں گے۔ انہوں نے ”کلین اینڈگرین” رضاکار فورس مہم کا افتتاح کرتے ہوئے جھاڑو ہاتھ میں پکڑ کر صففائی مہم کا آغاز کر دیا۔

انہوں نے یہ بھی فرمایا ”آج ہم نے وہ کام کیاہے جو ہمیں بہت پہلے کرنا چاہیے تھا”۔ جہاںتک ہمیںیاد ہے کپتان صاحب نے تیسری مرتبہ خیبرپختونخوا کی طرف رجوع کیاہے ۔ وہ جب بھی قومی سیاست سے تھوڑے مایوس ہوتے ہیںتو اُنہیں خیبرپختونخوا یادآ جاتاہے ۔اِس سے پہلے بھی وہ چھ ماہ میںاسی صوبے کی تقدیر بدلنے کااعلان کرچکے ۔ اللہ کرے اب کی باروہ واقعی ایساکرنے پرآمادہ ہوںاور ”دیرآید ،درست آید”کے مصداق شاید اُنہیں احساس ہوگیاہو کہ جوکام سب سے پہلے کرکے وہ سیاسی اُفق پرنمایاںترین مقام حاصل کرسکتے تھے ،وہ توخیبرپختونخوا کوماڈل صوبہ بناناتھا لیکن وہ ”ایویں خوامخواہ ”دھرنوںمیں اُلجھے رہے۔

قصور ہمارے کپتان صاحب کابھی نہیںکہ ڈھلتی عمرکے خوف سے اُنہیں وزیرِاعظم بننے کی جلدی ہی بہت تھی۔ ویسے بھی ستّر ،بہتر سال کی عمرمیں وہ وزیرِاعظم بن بھی گئے توکیا خاک مزہ آئے گا۔ پلک جھپکتے وزیرِاعظم بننے کے شوق نے اُنہی ںاحتجاجی سیاست پرم جبور کر دیا کیونکہ اُن کے خیال میںیہ پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ اُسے قائدِاعظم کے بعد اُن جیسالیڈر میسر آگیا۔ دراصل خاںصاحب کاخیال تھا کہ قوم بڑی باشعور ہے اِس لیے وہ سوائے اُن کے کسی اورکو اپنارہنماء مان ہی نہیں سکتی اسی لیے اُنہوںنے لندن میں اپنے بیٹوں سے ملاقات کے موقعے پرکہا کہ اب اُن سے اگلی ملاقات بطور”وزیرِاعظم پاکستان” ہوگی ۔اُنہیں یقین تھاکہ انتخابات میںت حریکِ انصاف کی دوتہائی اکثریت ”آوے ای آوے” لیکن ہوایہ کہ” سیاسی شعور” سے عاری قوم نے اُن کے خوابوںکا ”دھڑن تختہ” کرکے رکھ دیا۔

Elections

Elections

وہ سینئر لکھاری جوکبھی خاںصاحب کو”قائدِاعظم ثانی” کاخطاب دیاکرتے تھے وہ بھی کہنے لگے کہ کپتان کوتو سیاست کی الف بے بھی نہیںآتی۔ اپنے مَن مندرمیں وزارتِ عظمیٰ کی مُورت سجائے خاںصاحب کوشیخ رشید جیسے یقین دلانے والے بہت کہ انتخابات میںاُن کے ساتھ ”ہَتھ” ہوگیا۔ اسی لیے وہ ”دھاندلی دھاندلی” پکارتے دیوانہ وارسڑکوں پرنکل آئے اورہر اُس شخص اورادارے کو موردِالزام ٹھہرانے لگے جس کاالیکشن سے تھوڑاسا بھی تعلق بنتاتھا ۔اُنہوںنے الیکشن کمیشن ،نگران حکومتوں ،چیف جسٹس آف پاکستان ،آراوز اورانتظامیہ ،سب کے بارے میںکہاکہ یہ سب ”بکاؤمال” اورخریدار نوازلیگ ۔اڑھائی سالوںمیں شایدایک دن بھی ایسانہیں گزراہو گاجب خاںصاحب نے نوازلیگ پردھاندلی کاالزام نہ لگایا ہو۔

سپریم کورٹ کاتحقیقاتی کمیشن اُن کی خواہش پربنا لیکن فیصلہ اُن کے خلاف آیا۔تقریباََ تمام ضمنی انتخابات میں ہزیمت کاسامنا کرناپڑا ،بلدیاتی انتخابات کے پہلے اوردوسرے مرحلے میںپھر وہی ہزیمت لیکن آفرین ہے خاںصاحب پرکہ تاحال دھاندلی کی رَٹ جاری وساری۔ کہاں2011ء کاوہ دَور جب خاںصاحب کی سونامی کے آگے بندباندھنا مشکل بلکہ ناممکن نظرآتا تھا۔ تب قومی اوربین الاقوامی سرویز تحریکِ انصاف کی مقبولیت 34 فیصداور نوازلیگ کی 27 فیصدبتا رہے تھے اور پیپلزپارٹی کاکہیں وجودہی نظرنہیں آتاتھااور کہاںیہ عالم کہ بلدیاتی انتخابات میںخاں صاحب کوہراُس جگہ سے ہزیمت کا سامناکرنا پڑاجہاں اُن کاذاتی گھر تھا۔ زمان پارک لاہورمیں شکست، میانوالی میںشیرمان خیل وارڈسے شکست اوربنی گالہ اسلام آبادسے بھی شکست۔یہ تینوںوہ مقامات ہیںجہاں کپتان صاحب کے ذاتی گھر ہیں۔

Nawaz Sharif

Nawaz Sharif

شاید یہ اپنے گھرسے ہزیمت کاردِعمل ہے جوہاتھ میںجھاڑو پکڑے خاںصاحب اب بددُعاؤں پہ اُترآئے ہیں ۔اُنہوںنے پشاورمیں فرمایا” الیکشن 2018ء میںہی ہوںگے لیکن میاںصاحب کاپتہ نہیںکب خودکُشی کرلیں”۔ خاںصاحب کے اِس ”بھونڈے” بیان کے بعدکہا جاسکتا ہے کہ حالات سے سبق سیکھناشاید اُن کی فطرت میںہی نہیں۔دَرجوابِ آںغزل حنیف عباسی نے یہ بیان داغنا ضروری سمجھاکہ ”عمران خاںاپنے سیاسی فیصلوںکی وجہ سے کسی بھی وقت خودکشی کر لیں گے۔

محترمہ مریم نوازنے ٹویٹ کیا”تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خاںایک شکست خوردہ انسان ہیں،وہ کچھ بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیا کریں ۔اُن کے بھونڈے ریمارکس اُن کی ذہنی حالت کے عکاس ہیں”۔ ہم توکپتان صاحب کویہی مشورہ دیں گے کہ اب اگراُنہوں نے ”جھاڑو” پکڑہی لیا ہے توپھر سب سے پہلے تواپنی جماعت کی صفائی کی طرف دھیان دیں اور جسٹس (ر) وجیہ الدین کے فیصلے کے مطابق ”صفائی” کاا ہتمام کریں کیونکہ ہمارے خیال میں یہی ایک طریقہ ہے جس سے تحریکِ انصاف کواپنی کھوئی ہوئی مقبولیت دوبارہ مِل سکتی ہے اور وہ قومی دھارے میںشامل ہوکر ملک وقوم کی بہتری کے لیے بارآور ثابت ہوسکتی ہے لیکن اگرمنفی سیاست ہی اُنہی ںمرغوب رہی تو پھر تحریکِ انصاف کاانجام بھی تحریکِ استقلال کی طرح اظہرمِن الشمس ہے۔

Prof Riffat Mazhar

Prof Riffat Mazhar

تحریر: پروفیسر رفعت مظہر