امریکا کے پاس یوکرین میں شہریوں پر جان بوجھ کر حملوں کی ’قابلِ اعتماد اطلاعات‘

Antony Blinken

Antony Blinken

امریکا (اصل میڈیا ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے یوکرین میں شہریوں کو جان بوجھ کر حملوں میں نشانہ بنانے کی’’انتہائی قابل اعتماد اطلاعات‘‘ملاحظہ کرنے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ امریکا ان رپورٹوں کو روس کے خلاف ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات میں مدد دینے کے لیے دستاویزی شکل دے رہا ہے۔

بلینکن نے سی این این کے ’’اسٹیٹ آف دی یونین‘‘شو میں بتایا کہ ’’ہم نے شہریوں پرجان بوجھ کرحملوں کی بہت قابل اعتماد اطلاعات دیکھی ہیں۔یہ حملے جنگی جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔ہم نے بعض ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں بھی بہت قابل وثوق اطلاعات ملاحظہ کی ہیں‘‘۔

بلینکن نے مزیدکہا کہ ’’ہم اس وقت جوکچھ کررہے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان سب کو دستاویزی شکل دی جائے، یہ سب کچھ اکٹھاکیا جائے،اس پرنظرثانی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جب لوگ ،مناسب تنظیمیں اور ادارے جنگی جرائم کے ارتکاب کی تحقیقات کریں تو ہم ان کی معاونت کریں‘‘۔

روس یوکرین کے شہری علاقوں پرحملوں کی تردید کرتا ہے۔وہ 24 فروری کوشروع کی گئی اس مہم کویوکرین کے خلاف ’’خصوصی فوجی کارروائی‘‘قرار دیتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین پرقبضے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔

یوکرین میں امریکی سفارت خانہ نے جمعہ کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ روسی افواج نے جنوب مشرقی یوکرین میں شدید لڑائی کے بعد یورپ کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر پر قبضہ کر لیا ہے اور اس کاجوہری پلانٹ پرحملہ جنگی جرم ہے۔اس سے عالمی سطح پرخطرے کی گھنٹی بج گئی تھی۔

سی این این کے مطابق محکمہ خارجہ نے بعد میں یورپ میں تمام امریکی سفارت خانوں کوایک پیغام بھیجاتھا کہ وہ حملے کو جنگی جرم قراردینے سے متعلق کیف میں سفارت خانے کے ٹویٹ کوری ٹویٹ نہ کریں۔نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے بھی اس پیغام کا جائزہ لیا ہے۔