کپاس کے مقامی تاجر دیوالیہ ہونے کے دھانے پر پہنچ گئے

Cotton

Cotton

کراچی (جیوڈیسک) چین کی جانب سے کپاس کی طلب میں کمی کے باعث دنیا میں کپاس کی قیمتوں میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

چیئرمین کاٹن بروکرز فورم نسیم عثمان کے مطابق مقامی سطح پر کپاس کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ملرز کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔

ملک میں کپاس کی پیداوار میں 34 فیصد کمی کے بعد 50 لاکھ گانٹھوں کی غیر معمولی کمی واقع ہوئی، جس کے باعث رواں سیزن معمول سے دو ماہ پہلے ختم ہو گیا۔

کپاس کی بھارت سے درآمد کے باعث ملک کی معیشت کو زبردست دھچکا لگا ہے۔ نسیم عثمان کا کہنا ہے کہ کپاس کی قیمتوں میں کمی سے پنجاب میں یارن ڈیلرز سیمت جنرز کو 1 ارب 26 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔

اس وقت ملک میں کاٹن جنرز کے پاس 10 لاکھ گاںٹھوں کا اسٹاک رہ گیا ہے، جس میں صرف 20 فی صد معیاری کپاس ہے۔