مسائل رمضان

Ramadan

Ramadan

رمضان رمض سے بنا ہے، رمض کا معنی ہے جلانا۔ اور اس مہینے کو رمضان اس لئے کہتے ہیں کہ یہ تمام گناہوں کو جلا دیتا ہے اور جو شخص رمضان کے روزے رکھتا ہے اللہ تعالی اس کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔ جیسا کہ مشکوٰة المصابیح کی حدیث نبوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد پاک ہے جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان شریف کے روزے رکھے اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں روزے کی ایک اور خصوصیت ہے جو اسے دیگر عبادات سے ممتاز کرتی ہے۔ حدیث قدسی ہے روزہ میرے لیے ہے۔

اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا یعنی قیامت کے دن جب دوسروں کے تلف کیے ہوئے حقوق کا مطالبہ کیا جائے گا اور بندہ انہیں پورا نہیں کر سکے گا تو حق مارنے والوں کی عبادتیں صاحب حق کو بدلہ میں دے دی جائیں گی۔ لیکن روزہ ایسی عبادت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو کسی حق کے بدلہ میں نہیں دیں گے بلکہ اس کا ثواب اللہ تعالیٰ ہی اس روزہ دار کو ویں گے۔ کسی کے بدلہ میں یہ عبادت نہیں دی جائے گی۔ لہذا اس اہم عبادت کی ادائیگی کیلئے خاص طور پر اہتمام کرنا چاہئے۔ اور یہ بات ذہن نشین ہونی چاہئے کہ روزہ ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہے۔

پاگل اور نا بالغ اس عبادت کے مکلف نہیں ہیں۔ نا بالغ بچوں کو نماز کی طرح روزہ کی بھی عادت ڈالنا ضروری ہے۔ صوم کے اصل معنی رکنے کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے آپ کو عبادت کی نیت کے ساتھ کھانے پینے اور شہوات سے بچائے رکھنا روزہ کہلاتا ہے۔ حیض ونفاس کے ایام میں عورتوں کیلئے روزہ کی ممانعت ہے مگر بعد میں ان کی قضا ضروری ہے۔ روزہ کیلئے نیت یعنی دل کے ارادے کا ہونا شرط ہے۔ بغیر نیت کے روزہ نہیں ہوتا۔ زبان سے نیت کے الفاظ کہہ لینا بہتر ہے۔ روزہ رکھ کر بلا عذرِ شرعی توڑ دینا سخت گناہ ہے۔

ہاں اگر ایسا بیمار ہو گیا کہ روزہ نہ توڑنے سے جان جانے کا خطرہ ہو، یا بیماری کے بڑھ جانے کا قوی احتمال ہو، یا ایسی شدید پیاس لگی ہو کہ مر جانے کا خطرہ ہوتو ایسی صورت میں روزہ توڑ دینا جائز، بلکہ واجب ہے۔ البتہ صحت ہو جانے پر قضا کرنا لازم ہے۔رہا یہ سوال کہ روزہ کن کاموں سے فاسد ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے:کھانے یا پینے یا جماع کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے جب کہ روزہ دار ہونا یاد ہو۔ اور اگر روزہ دار ہونا یاد نہ رہا اور بھول کر کھا لیا یا پی لیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ حقہ، سگریٹ، بیڑی، چرٹ، سگار پینے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

Chinese

Chinese

پان کھانے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے اگرچہ پیک تھوک دیا ہو۔ شکر، چینی، گڑ وغیرہ ایسی چیزیں جو منہ میں رکھنے سے مائع ہو جاتے ہیں منہ میں رکھی اور تھوک نگل گیا تو اس سے بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔ دانتوں میں کوئی چیز چنے برابر یا اس سے زیادہ تھی اسے کھا لیا یا کم تھی لیکن باہر سے لے کر کھائی تو بھی روزہ ٹوٹ گیا۔ دانتوں سے خون نکل کر حلق سے نیچے اترا اور خون تھوک سے زیادہ یا برابر تھا یا کم تھا مگر اس کا مزہ حلق میں معلوم ہوا تو ان سب صورتوں میں روزہ جاتا رہا اور اگر خون کم تھا اور مزہ بھی معلوم نہ ہوا تو روزہ فاسد نہیں ہوا۔

حقنہ لیا یا نتھنوں میں دوا چڑھائی یا کان میں تیل ڈالا یا تیل چلا گیا تو روزہ ٹوٹ گیا اور اگر پانی کان میں چلا گیا یا ڈالا تو روزہ نہیں ٹوٹا۔ کلی کررہا ہے بلا قصد پانی حلق سے اتر گیا یا ناک میں پانی چڑھا رہا تھا پانی دماغ میں چڑھ گیا تو روزہ ٹوٹ گیا لیکن اگر روزہ ہونا بھول گیا ہو تو نہیں ٹوٹے گا۔ سوتے میں پانی پی لیا یا کچھ کھا لیا یا منہ کھولا تھا اور پانی کا قطرہ یا اولا حلق میں چلا گیا تو روزہ ٹوٹ گیا۔ منہ میں کوئی رنگین چیز رکھی جس سے تھوک رنگین ہوگیا پھر تھوک نگل لیا تو روزہ ختم ہوگا۔ آنسو منہ میں چلا گیا اور نگل لیا اگر بوند دو بوند ہے تو روزہ نہ گیا اور اگر زیادہ تھا۔

کہاس کی نمکینی پورے منہ میں معلوم ہوتی ہو تو روزہ ٹوٹ گیا۔ پسینہ کا بھی یہی حکم ہے۔مرد عورت کے قریب ہوا اور انزال ہوگیا تو روزہ جاتا رہا اگر چہ عمل زوجیت نہ بھی کیا ہو۔ لیکن اگر عمل زوجیت کیا اور انزال نہ بھی ہوا تو روزہ جاتا رہا۔ اور اگر عورت نے مرد کو چھوا اور مرد کو انزال ہوگیا تو روزہ نہ ٹوٹا۔ عورت کو کپڑے کے اوپر سے چھوا اور کپڑا اتنا موٹا ہے کہ بدن کی گرمی معلوم نہ ہوئی تو روزہ نہ ٹوٹا اگرچہ انزال ہوگیا۔ قصد اََمنہ بھر قے کی اور روزہ دار ہونا یاد ہے تو روزہ ٹوٹ گیا اور اگر منہ بھر سے کم کی تو روزہ نہ ٹوٹا۔ بے اختیار قے ہوگئی تو تھوڑی ہو یا زیادہ روزہ نہ ٹوٹا۔

Patients

Patients

بے اختیار قے ہوئی اور خود بخود اندر لوٹ گئی تو روزہ نہ ٹوٹا چاہے اگرچہ تھوڑی ہو یا زیادہ اور اگرچہ روزہ یاد ہو یا نہ یاد ہو۔ قے کے یہ احکام اس وقت ہیں کہ قے میں کھانا آئے یا صفر ایا خون، اور اگر بلغم آیا تو مطلقاََ روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ لیکن چند ایسی صورتیں ہیں جن میں شریعت اسلامیہ روزہ نہ رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ چنانچہ کتب معتبرہ میں روزہ سے معذوری کی درج ذیل چند وجوہ بیان کی گئیں ہیں مسافر، شرعی مریض یعنی ایسا شخص کہ روزہ رکھنے سے اس کا مرض بڑھ جائے، صحت مند ہونے میں دیر لگ جائے یا ہلاک ہونے کا اندیشہ ہو۔

حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں جن کو اپنا یا اپنے بچے کا اندیشہ ہو ان سب کو جائز ہے کہ رمضان کے روزوں کو ملتوی کر دیں اور عذر دور ہونے پر ان کی قضا کریں۔ مگر جسمانی نقصان کا اندازہ قائم کرنے میں خود اپنی رائے معتبر نہیں ہے بلکہ کسی ایسے ماہر ڈاکٹر یا طبیب کی شہادت ضروری ہے جو مسلمان ہو اور دین دار بھی۔ اگر معالج غیر مسلم ہے تو کسی مسلمان اور دین دار طبیب سے بطور مشورہ تصدیق کرانا ضروری ہے۔ ہ بوڑھا جو بڑھا پے کی ایسی حد میں پہنچ گیا ہے کہ اب روزہ کی طاقت نہیں ہے اور نہ ہی آئندہ طاقت آنے کی امید ہے۔

اس کو اپنے روزے کا فدیہ دینا چاہئے یعنی ہر روزہ کے عوض دو وقت کا کھانا کسی مسکین کو کھلا دینا چاہئے یا ایک شخص کے صدقہ فطر کے برابر غلہ یا نقد رقم کسی مستحق کو دے دینی چاہئے۔ بہرحال اس مہینہ میں عبادات کا خوصی اہتمام کرنا چاہئے کیونکہ یہ مہینہ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے نار جہنم کے مستحق بن جانے والوں کے لئے آزادی کا پروانہ ہے، اس ماہ مبارک میں ایمان و عمل کی بہار آتی ہے، گناہوں کی سیاہی سے زنگ آلود دلوں کی صفائی کا سامان کیا جاتا ہے، جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں، جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔

اللہ رب العزت کی طرف سے فرشتے ندا کرتے ہیں اے طالب خیر! آگے بڑھ یعنی مزید نیک اعمال کر اور اے شر کے چاہنے والے !پیچھے ہٹ، سرکش شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں دن کو روزہ فرض کیا گیا تاکہ نفس کی خواہشات سے اس کو دور رکھ کر زیور تقوی سے آراستہ کیا جائے اور رات کو تراویح پڑھنے کا حکم دیا گیا تاکہ قرآن پاک سن کر دلوں کو جلا بخشی جائے۔ آخر میں دعا ہے اللہ تعالیٰ روزے اور انکے تقاضوں کو صحیح طریقہ سے ادا کرنے اور پورا کرنے کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ آمین!

تحریر: پیر محمد عثمان افضل قادری
0333-8403748