بدین : ذوالفقار مرزا کے حامی محمد اسماعیل میمن کے گھر پر چھاپا مارکر گرفتار کرلیا

Badin

Badin

بدین (عمران عباس) بدین پولیس کی جانب سے سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے حامیوں کے خلاف بدین تھانے پر درج دھشت گردی ایکٹ کے مقدمات میں بدین شہر کے ایک نیم پاگل محمد اسماعیل میمن کو بھی نامزد کرکے اس کے گھر پر چھاپا مارکر گرفتار کرلیا اور نامعلوم مقام پر متقل کردیا

نیم پاگل محمد اسماعیل میمن کی بیواوالدہ زیب النساء میمن نے بدین پریس کلب پہنچ کرصحافیوں کو بتایا کہ بدین پولیس نے پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں کے کہنے پر میرے دو بیٹوں عبدالقادر میمن اور نیم پاگل بیٹے محمد اسماعیل میمن کو ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ساتھ ایف آئی آر میں نامزد کیا ہے، عبدالقادر میمن کو گرفتار کرکے غائب کرنے کے بعد میرے نیم پاگل بیٹے محمد اسماعیل میمن کو بھی گرفتار کرکے غائب کردیا ہے

زیب النساء میمن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ میرے دونوں بیٹوں کو پیپلز پارٹی ضلع بدین کے رہنماء کے اشارے پر ایس ایس پی بدین نے گرفتار کراکے ان کو قتل کرادیا ہے انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ اور سندھ ھائی کورٹ ا ور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ میرے بے گناھ بیٹوں کو بازیاب کرایا جائے اور پی پی رہنماء، ایس پی بدین، اور ایس ایچ او بدین کے خلاف کاروائی کی جائے۔

دوسری طرف گذشتہ روز ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے کراچی میں امکانی گرفتاری کے خلاف ان کے حامیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کرکے موجھرشاخ پر دھرنا دیکر بدین کراچی روڈ بلاک کرنے پر بدین پولیس اور کڑیو گھنور پولیس کی جانب سے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے پچاس سے زائد حامیوں پر دھشت گردی ایکٹ کے تحت اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر بدین اور کڑیو گھنور تھانوں پر مقدمات درج کرنے کے بعد ذوالفقار مرزا کے 15ساتھیوں کو جن میں 65سالا حاجی آدم ابڑو، مدد علی چانڈیو، عبدالکریم ابڑو، صدام حسین چاندیو، محمد ابراھیم شیخ، نور محمد چانڈیو، حسین چانڈیو، شریف چانڈیو، سومار چانڈیو، رحمت اللہ خاصخیلی، رشید پنجابی، عباس علی چانڈیو، پپو چانڈیو، سانوں چانڈیو، اور دھنو کولہی بھی شامل کیا گیا ہے بدین پولیس نے مختلف جگہوں پر چھاپے مارکر گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔