اِک نئے دور کی بنیاد کو رکھا جائے

اِک نئے دور کی بنیاد کو رکھا جائے

اِک نئے دور کی بنیاد کو رکھا جائے دور ماں باپ سے اولاد کو رکھا جائے شکوہ بے جا تو نہیں دنیا کے اس کمرے میں کس طرح مختلف افراد کو رکھا جائے شکل و صورت کے کھنڈر کی ہوئی تعمیر نئی…

آر سے پار نہیں نکلا

آر سے پار نہیں نکلا

آر سے پار نہیں نکلا عکسِ دیوار سے نہیں نکلا شہر بنتے گئے مگر انساں آج تک غار سے نہیں نکلا اُس کنویں میں پڑا ہوا صندوق ایک دو چار سے نہیں نکلا میں بہت سامنے ہوا اُس کے وہ حسیں کار…

پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہا

پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہا

پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہا جنگ تھی باہر گلی میں ، میں غزل کہتا رہا شاعری کی اور نظر انداز کی بچوں کی بھوک چاند کو روٹی کا نعم البدل کہتا رہا آ پڑا دل پر مرے آخر…

اُسی کا نام لیا جو غزل کہی میں نے

اُسی کا نام لیا جو غزل کہی میں نے

اُسی کا نام لیا جو غزل کہی میں نے تمام عمر نبھائی ہے دوستی میں نے چراغ ہوں میں اگر بُجھ گیا تو کیا غم کہ جتنی دیر جلا روشنی تو کی میں نے میں شیر دیکھ کے پنجرے میں خوش نہیں…

چھوڑی ہوئی بستی کا وہ منظر نہ ملیگا

چھوڑی ہوئی بستی کا وہ منظر نہ ملیگا

چھوڑی ہوئی بستی کا وہ منظر نہ ملیگا گھر لوٹ کے جائو گے تو وہ گھر نہ ملیگا اس جنگ میں گر جیت بھی جائو گے تو کیا ہے اس تاج کو رکھنے کیلئے سر نہ ملیگا اس شہر کے لوگوں کو…

چمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیں

چمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیں

چمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیں ہر ایک جلوے میں جلوہ نما کو دیکھتے ہیں ہمیں کتاب میں ہے ترا رخ روشن ترے جمال میں نور خدا دیکھتے ہیں وہ آئیں پرسش غم کو یقیں نہیں آتا ہم اپنے سامنے…

شعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہے

شعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہے

شعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہے ایک دوعالم بھی تھا اورا یک یہ عالم بھی ہے اہل دل کو شکوہ بے مہری عالم سہی دیکھنا یہ ہے کہ احساس شکست غم بھی ہے پاہی لیں گے منزلیں دشواریوں کے باوجود کوئی…

ٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیں

ٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیں

ٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیں نظم گیت وہی بدلتے ہیں وہ ترسے ہیں روشنی کے لیے جن کے خوں سے چراغ جلتے ہیں بے سبب مسکرانا کیا معنی بے سبب اشک بھی نکلتے ہیں گھیر لیتی ہے گردش دوراں گیسوئوں سے…

پہلو میں دل ہو اور ذہن میں زباں ہو

پہلو میں دل ہو اور ذہن میں زباں ہو

پہلو میں دل ہو اور ذہن میں زباں ہو میں کیسے مان لوں کہ حقیقت بیاں نہ ہو میرے سکوت لب پر بھی الزام آ گئے میری طرح چمن میں کوئی بے زباں نہ ہو سوز دل وگداز جگر معتبر نہیں جب…

زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا

زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا

زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا دائمی ایک بھی منظر نہیں ہونے پاتا عمر مصروف کوئی لمحہ فرصت ہو عطا میں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا آئے دن آتش و آہن سے گزرتا ہے مگر دل وہ کافر ہے کہ…

المدد اے چاک دامانو، قبا خطرے میں ہے

المدد اے چاک دامانو، قبا خطرے میں ہے

المدد اے چاک دامانو، قبا خطرے میں ہے ڈوبنے والو بچائو ناخدا خطرے میں ہے خون دل دینا ہی ہو گا اے اسیران چمن بوئے غنچہ روئے گل دست صبا خطرے میں ہے مصلحت کوشی ہے یا شوخی طرز بیاں راہبر خود…

جو غم شناس ہو ایسی نظر تجھے بھی دے

جو غم شناس ہو ایسی نظر تجھے بھی دے

جو غم شناس ہو ایسی نظر تجھے بھی دے یہ غم دیوار و در تجھے بھی دے سخن گلاب کو کانٹوں میں تولنے والے خدا سلیقہ عرضِ ہنر تجھے بھی دے خراشیں روز چنے اور دل گرفتہ نہ ہو یہ ظرف آئینہ،…

کیا خبر تھی نہ ملنے کے نئے اسباب کر دیگا

کیا خبر تھی نہ ملنے کے نئے اسباب کر دیگا

کیا خبر تھی نہ ملنے کے نئے اسباب کر دیگا وہ کر کے خواب کا وعدہ مجھے بے خواب کر دیگا کسی دن دیکھنا وہ آ کے میری کشت ویراں پر اچٹتی سی ڈالے گا اور شاداب کر دیگا وہ اپنا حق…

نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں

نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں

نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں بڑھا رہی ہیں نگاہوں کا حوصلہ آنکھیں جو دل میں عکس ہے آنکھوں سے بھی وہ چھلکے گا دل آئینہ ہے مگر دل کا آئینہ آنکھیں وہ اک ستارا تھا جانے کہاں گرا ہو…

جو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیں

جو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیں

جو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیں رنگوں میں تیرا عکس ڈھلا تو نہ ڈھل سکی سانسوں کی آنچ جسم کی خوشبو نہ ڈھل سکی تجھ میں جو لوچ ہے مری تحریر میں نہیں بے جان حسن میں کہاں رفتار…

میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا میں وہ نغمہ ہوں جسے پیار کی محفل نہ ملی وہ مسافر ہوں جسے کوئی بھی منزل نہ ملی زخم پائے ہیں بہاروں…

تم نہ جانے کس جہاں میں کھو گئے

تم نہ جانے کس جہاں میں کھو گئے

تم نہ جانے کس جہاں میں کھو گئے ہم بھری دنیا میں تنہا ہو گئے موت بھی آتی نہیں آس بھی جاتی نہیں دل کو یہ کیا ہوا کوئی شے بھاتی نہیں ایک جان اور لاکھ غم گھٹ کے رہ جائے نہ…

میں پل دو پل کا شاعر ہوں

میں پل دو پل کا شاعر ہوں

میں پل دوپل کا شاعر ہوں پل دوپل میری کہانی ہے پل دوپل میری ہستی ہے پل دوپل میری جوانی ہے مجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے اور آکر چلے گئے کچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے کچھ نغمے گا کر چلے…

کبھی کبھی

کبھی کبھی

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھائوں میں گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی عجب…

محبت ترک کی میں نے گریبان سی لیا میں نے

محبت ترک کی میں نے گریبان سی لیا میں نے

محبت ترک کی میں نے گریبان سی لیا میں نے اب تو خوش ہو زہر یہ بھی پی لیا میں نے ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت میں کہ اب تک کس تمنا کے سہارے جی لیا میں نے انہیں…

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زنگی سے ہم

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زنگی سے ہم

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زنگی سے ہم ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم مایوسئی مال محبت نہ پوچھیے! اپنوں سے پیش آئے ہیں بیگانگی سے ہم لو آج ہم نے توڑ دیا رشتہ امید لو اب کبھی…

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے نہ ظاہر ہو تمہاری…

یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے

یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے

یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے کہاں ہیں کہاں محافظ خودی کے ثناء خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟ یہ پریچ گلیاں یہ بے خواب بازار یہ گمنام راہی یہ سکوں کی جھنکار یہ عصمت…

تم چلی جائو گی، پرچھائیاں رہ جائیں گی

تم چلی جائو گی، پرچھائیاں رہ جائیں گی

تم چلی جائو گی، پرچھائیاں رہ جائیں گی کچھ نہ کچھ حسن کی رعنائیاں رہ جائیں گی تم تو اس جھیل کے ساحل پہ ملی ہو مجھ سے جب بھی دیکھوں گا یہیں مجھ کو نظر آئو گی یاد مٹتی ہے نہ…