کچھ ایسے خشک ہوتا جارہا ہوں

کچھ ایسے خشک ہوتا جارہا ہوں

کچھ ایسے خشک ہوتا جارہا ہوں زمیں خود میں سموتا جارہا ہوں کھلے گا اک گلِ خورشید دن کو ستارے شب میں بوتا جا رہا ہوں سفر کی اک نشانی بھی نہیں ہے کہ جو پاتا ہوں کھوتا جا رہا ہوں ملے…

طاق پر جزدان میں لپٹی دُعائیں رہ گئیں

طاق پر جزدان میں لپٹی دُعائیں رہ گئیں

طاق پر جزدان میں لپٹی دُعائیں رہ گئیں چل دیے سفر پر گھر میں مائیں رہ گئیں ہو گیا خالی نگر بلوائیوں کے خوف سے آنگنوں میں گھومتی پھرتی ہوائیں رہ گئیں درمیاں تو جو بھی کچھ تھا اسکو وسعت کھا گئی…

اس قدر بھی تو نہ جذبات پہ قابو رکھو

اس قدر بھی تو نہ جذبات پہ قابو رکھو

اس قدر بھی تو نہ جذبات پہ قابو رکھو تھک گئے ہو تو مرے کاندھے پہ بازو رکھو بھولنے پائے نہ اُس دشت کو وحشت دل سے شہر کے بیچ رہو باغ میں آہو رکھو خشک ہو جائے گی روتے ہوئے صحرا…

ہلے مکاں نہ سفر میں کوئی مکیں دیکھا

ہلے مکاں نہ سفر میں کوئی مکیں دیکھا

ہلے مکاں نہ سفر میں کوئی مکیں دیکھا جہاں پہ چھوڑ گئے تھے اُسے وہیں دیکھا کٹی ہے عمر کسی آبدوز میں سفر تمام ہوا اور کچھ نہیں دیکھا کِھلا ہے پھول کوئی تو اُجاڑ بستی میں مکانِ دل میں کہیں تو…

خواب اور حقیقت

خواب اور حقیقت

مجھے اچانک نظر وہ آئی! میں چُپ رہا پر کچھ اس طرح سے مرے پریشاں سوال اُبھرے تمام سوئے خیال اُبھرے تڑپتی جانوں کو جیسے لے کر کسی مچھیرے کا جال اُبھرے سمجھ نہ پایا کہ کیا کروں میں قدم بڑھائوں کہ…

گھر عطا کر مکاں سے کیا حاصل

گھر عطا کر مکاں سے کیا حاصل

گھر عطا کر مکاں سے کیا حاصل صرف وہم و گماں سے کیا حاصل بے یقینی ہی بے یقینی ہے ! ایسے ارض و سماں سے کیا حاصل سوچ آگے بڑھے تو بات بنے صرف عمرِ رواں سے کیا حاصل آفتِ ناگہاں…

یہ زمینی بھی زمانی بھی

یہ زمینی بھی زمانی بھی

یہ زمینی بھی زمانی بھی فطرتِ عشق آسمانی بھی شرط ہے جاں سے جائے پہلے ہے عجب عمرِ جاودانی بھی تم نے جو داستان سنائی ہے ہے وہی تو مری کہانی بھی کتنے دلچسپ لگنے لگتے ہیں! میرے قصّے تری زبانی بھی…

تو جو چاہے بھی تو صیّاد نہیں ہونے کے

تو جو چاہے بھی تو صیّاد نہیں ہونے کے

تو جو چاہے بھی تو صیّاد نہیں ہونے کے لب ہمارے لبِ فریاد نہیں ہونے کے کوئی اچھی بھی خبر کان میں آئے یا ربّ ایسی خبروں سے تو دل شاد نہیں ہونے کے تو رہے ہم سے خفا کتنا ہی چاہے…

اِن عقیدوں کے ، نصب کے، نام کے

اِن عقیدوں کے ، نصب کے، نام کے

اِن عقیدوں کے ، نصب کے، نام کے ” ختم ہوں جھگڑے یہ صبح و شام کے ” یہ ملوکیت، یہ سب دہشت گردی اور سب تلے اسلام کے بے اثر ہیں اُن پہ سب اسم و سحر وہ جو عاشق ہیں…

ثبات وہم ہے یارو، بقا کسی کی نہیں

ثبات وہم ہے یارو، بقا کسی کی نہیں

ثبات وہم ہے یارو، بقا کسی کی نہیں ”چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں” کرو نہ گلشن ہستی اس کے لیے نہ ہاتھ آئے گی یارو، صبا کسی کی نہیں زمانہ گزرا کہ دل پر ہوئی تھی اک دستک…

بزم میں تیرے نہ ہونے کا سوال آیا بہت

بزم میں تیرے نہ ہونے کا سوال آیا بہت

بزم میں تیرے نہ ہونے کا سوال آیا بہت تو نہیں تھا آج تو تیرا خیال آیا بہت دیکھتے ہی دیکھتے شاہوں کی شاہی چھن گئی باکمالوں پر زمانے میں زوال آیا بہت جہل کے سائے میں گہری نیند ہم سوتے رہے…

نہاں فنا میں بقا ہے، ذرا سنبھل کے چلو

نہاں فنا میں بقا ہے، ذرا سنبھل کے چلو

نہاں فنا میں بقا ہے، ذرا سنبھل کے چلو یہ خاک خاکِ شفا ہے ذرا سنبھل کے چلو ہر ایک ذہن میں اندیشہ ہائے دور دراز ہر ایک لب پہ صدا ہے، ذرا سنبھل کے چلو ہیں اس کی خاک کے پردے…

ہم آفتاب سے،  ڈھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں

ہم آفتاب سے، ڈھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں

ہم آفتاب سے، ڈھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں خود اپنی آگ میں جلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں جو سنگ ٹوٹ نہ پائے جہاں کی کوشش سے ہمارے غم سے پگھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں تباہیوں پہ ہماری جو کل…

نزرِ میر

نزرِ میر

نام سنتا ہوں ترا جب بھرے سنسار کے بیچ لفظ رک جاتے ہیں آکر مری گفتار کے بیچ دل کی باتوں میں نہ آ یار کہ اس بستی میں روز دل والے چنے جاتے ہیں دیوار کے بیچ ایک ہی چہرہ کتابی…

امّی

امّی

میں اس سے قیمتی شے کوئی کھو نہیں سکتا عدیل ماں کی جگہ کوئی ہو نہیں سکتا مرے خدا یہاں درکار ہے مسیحائی! لہو کو آدمی اشکوں سے دھو نہیں سکتا یہ اور بات ہے ہو جائے معجزہ کوئی! یہ غم خوشی…

وہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہے

وہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہے

وہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہے پانیوں کا پھول پانی میں رواں ہونے کو ہے ماہیء بے آب ہیں آنکھوں کی بے کل پتلیاں ان نگاہوں سے کوئی منظر نہاں ہونے کو ہے گم ہوا جاتا ہے کوئی منزلوں…

وہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہے

وہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہے

وہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہے وہی دعا بھی، وہی حاصل دعا بھی ہے میں اس کی کھوج میں نکلا ہوں ساتھ لے کے اسے وہ حسن مجھ پر عیاں بھی ہے اور چھپا بھی ہے میں دربدر تھا،…

کانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسی

کانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسی

کانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسی جیون بھول بھلیوں میں وہ رستوں جیسی اجلی اجلی مہکی مہکی روشن روشن میری سوچوں جیسی، میرے جذبوں جیسی جھلمل جھلمل کرتی اترے دل آنگن میں رات اندھیروں میں وہ چاند اجالوں جیسی جاگتی…

بھٹک رہی ہے عطا خلق بے اماں پھر سے

بھٹک رہی ہے عطا خلق بے اماں پھر سے

بھٹک رہی ہے عطا خلق بے اماں پھر سے سروں سے کھینچ لیے کس نے سائبان پھر سے دلوں سے خوف نکلتا نہیں عذابوں کا زمیں نے اوڑھ لیے سر پر آسماں پھر سے میں تیری یاد سے نکلا تو اپنی یاد…

تھوڑی سی اس طرف بھی نظر ہونی چاہئے

تھوڑی سی اس طرف بھی نظر ہونی چاہئے

تھوڑی سی اس طرف بھی نظر ہونی چاہئے یہ زندگی تو مجھ سے بسر ہونی چاہئے آئے ہیں لگ رات کی دہلیز پھاند کر ان کے لیے نوید سحر ہونی چاہئے اس درجہ پارسائی سے گھٹنے لگا ہے دم میں ہوں بشر،…

منزلیں بھی، یہ شکستہ بال وپر بھی دیکھنا

منزلیں بھی، یہ شکستہ بال وپر بھی دیکھنا

منزلیں بھی، یہ شکستہ بال وپر بھی دیکھنا تم سفر بھی دیکھنا، رخت سفر بھی دیکھنا حالِ دل تو کُھل چکا اس شہر میں ہر شخص پر ہاں مگر اس شہر میں اک بے خبر بھی دیکھنا راستہ دیں یہ سلگتی بستیاں…

آٹو گراف

آٹو گراف

کھلاڑیوں کے خودنوشت کے واسطے کتابچے لئے ہوئے کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں مہیب پھاٹکوں کے دولتیکواڑچیخ اُٹھے اُبل پڑے اُلجھتے بازوئوں چٹختی پسلیوں کے پُر ہر اس قافلے گرے ، بڑھے، مُڑے بھنور ہجوم…

اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہے

اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہے

اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہے کانٹوں سے اُلجھ کر جینا ہے پھولوں سے لپٹ کر مرنا ہے شاید وہ زمانہ لوٹ آئے، شاید وہ پلٹ کر دیکھ بھی لیں ان اُجڑی اُجڑی نظروں میں پھر کوئی…

روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھول

روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھول

روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھول حسیں گلاب کے پھول، ارغواں گُلاب کے پھول اُفق اُفق پہ زمانوں کی دُھند سے اُبھرے طیّور، نغمے، ندی، گُلاب کے پھول کسی کا پھول سا چہرہ اور اس پہ رنگ افروز گندھے…